13 ستمبر 2026 - 16:03
امریکی ریٹائرڈ کرنل کا اعتراف: ایران کے خلاف طویل جنگ واشنگٹن کی تزویراتی شکست بن سکتی ہے

امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کے سابق چیف آف اسٹاف لارنس ویلکرسن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے امریکا ایک ایسی طویل اور مہنگی جنگ میں پھنس سکتا ہے جس کی لاگت 10 سال میں ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں امریکی فوجی، اقتصادی اور تزویراتی صلاحیت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رائی الیوم نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور سابق وزیر خارجہ کولن پاول کے سابق چیف آف اسٹاف لارنس ویلکرسن نے ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایک ایسی جنگ میں پھنس رہا ہے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔

ویلکرسن کے مطابق، جنگ کا موجودہ راستہ امریکا کے لیے کسی واضح کامیابی کا باعث نہیں بن رہا بلکہ اس کے نتیجے میں امریکی فوجی، اقتصادی اور تزویراتی صلاحیتیں دنیا کے دوسرے محاذوں پر بھی کمزور ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے مغربی ذرائع ابلاغ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست کو پہنچنے والے نقصانات اور ایران کی جانب سے اپنے دفاع میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کی حقیقی تصویر درست طور پر پیش نہیں کی جا رہی۔

ایران کے خلاف جنگ میں امریکی طاقت کا مسلسل زوال

ویلکرسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم، جن میں وزیر دفاع پِیٹ ہیگسیت بھی شامل ہیں، جنگ کی نوعیت اور اس کے حقیقی حجم کو درست طور پر نہیں سمجھتے اور ان کے پاس جنگ سے نکلنے کی کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

ان کے بقول، موجودہ صورتحال جاری رہی تو امریکا مسلسل فوجی اور رسدی اخراجات کے ایسے چکر میں داخل ہو سکتا ہے جس کا کوئی واضح اختتام نہیں ہوگا۔

انہوں نے اندازہ لگایا کہ اگر امریکا نے اپنی موجودہ پالیسی تبدیل نہ کی اور جنگ کو 10 سال تک جاری رکھا تو اس کی مجموعی لاگت تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو واشنگٹن کے لیے ایک بڑی تزویراتی شکست ثابت ہوگی۔

ایران نے ابھی اپنے جدید ترین میزائل استعمال نہیں کیے

امریکی ریٹائرڈ کرنل نے ایران کو ایک پُرعزم، دوراندیش اور مزاحمت کرنے والی قوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی خطرے کی صورت میں ایرانی عوام اپنی قومی شناخت کے گرد متحد ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ابھی تک اپنے جدید ترین میزائل استعمال نہیں کیے اور اس کے پاس انتہائی درست نشانہ لگانے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ ان کے مطابق چین کی سیٹلائٹ معاونت اور روس کی حمایت سے ایران کی یہ صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

ویلکرسن نے خبردار کیا کہ جنگ کا دائرہ موجودہ سطح سے بڑھ سکتا ہے اور اس صورت میں خطے کے اہم اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے خلیج میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس، متحدہ عرب امارات کے تیل کے بنیادی ڈھانچے اور سعودی عرب و اردن میں بعض اہم تنصیبات کو ممکنہ اہداف میں شمار کیا۔

سستے ایرانی میزائل اور مہنگے امریکی دفاعی نظام

ویلکرسن نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز خطے میں امریکا کے بعض جدید ریڈار نظام کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں اور ایک ایسے ریڈار کی قیمت تقریباً 500 ملین ڈالر بتائی جو ان کے بقول تباہ کیا گیا۔

ان کے مطابق، امریکا کے لیے ان نظاموں کو فوری طور پر دوبارہ تیار یا تبدیل کرنا آسان نہیں، خاص طور پر اس لیے کہ جدید فوجی سازوسامان کی تیاری میں استعمال ہونے والی بعض نایاب معدنیات کی فراہمی میں چین کا اہم کردار ہے۔

ریٹائرڈ امریکی کرنل نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے کم لاگت میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے پَیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے انتہائی مہنگے میزائل شکن نظام کے ذخائر تیزی سے استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یورپ اور مشرقی ایشیا جیسے دوسرے اہم علاقوں میں امریکا کی دفاعی اور جوابی کارروائی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران پر زمینی حملہ ’فوجی دیوانگی‘ ہوگا

ویلکرسن نے ایران کے خلاف کسی بھی زمینی حملے، حتیٰ کہ جزیرہ خارک پر قبضے کی کوشش، کو ’’فوجی دیوانگی‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا اقدام امریکی فوج کے لیے بھاری جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور امریکی عوام اس جنگ کے ایسے نقصانات اور اخراجات کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اور اس کے اتحادی خطے میں امریکی فوجی اور رسدی ڈھانچے پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور امریکی کمانڈ مراکز، ایندھن کے ذخائر اور میزائلوں کی تیاری و منتقلی سے متعلق تنصیبات بھی خطرے میں ہیں۔

ویلکرسن نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے اڈے کو بھی ان اہم مراکز میں شمار کیا اور کہا کہ ایسے بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کی لاگت پینٹاگون کے سرکاری اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

صیہونی ریاست کے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا خدشہ

ویلکرسن نے اپنے ایک اور اہم انتباہ میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو موجودہ بحران کی سنگینی کو سمجھنے والے اہم افراد میں سے ایک ہیں اور اگر انہیں محسوس ہوا کہ صیہونی ریاست کا وجود ناقابلِ برداشت خطرے سے دوچار ہے تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مغربی میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطین کے اندر ہونے والے نقصانات کو کم کرکے پیش کر رہا ہے اور ایران کی دفاعی کامیابیوں کی حقیقی سطح کو چھپا رہا ہے۔

امریکی مفادات اور خطے میں فوجی موجودگی

امریکی ریٹائرڈ کرنل نے امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تنازع کو صرف امریکی قومی سلامتی کے تحفظ کا معاملہ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی اور توانائی کی گزرگاہوں پر اس کی گرفت، امریکا کی براہِ راست سلامتی کی ضرورت سے زیادہ اس کے اتحادیوں کے مفادات سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف محاذ آرائی دراصل دنیا میں امریکی اقتصادی اور فوجی بالادستی میں آنے والی کمی کو روکنے کی واشنگٹن کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ویلکرسن کے مطابق، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور عالمی تجارتی راستوں میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کے ساتھ امریکا خود کو ایسی جنگ میں داخل کر چکا ہے جو واشنگٹن کے لیے مطلوبہ نتائج کے بجائے الٹا نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha